یہ کہانی ہے ایک لنگڑے گدھے کی، جس کا نام شیردل تھا۔ اس کا مالک ایک سیدھا سادا کسان تھا، جس کا نام سلیم تھا۔ سلیم کو اپنے گدھے سے بے حد پیار تھا، مگر شیردل پیدائشی طور پر لنگڑا کر چلتا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ ہمیشہ کمزور رہتی تھی۔ گاؤں والے جب بھی اسے دیکھتے تو مذاق اڑاتے اور کہتے، ارے سلیم! اس بیکار جانور کو کیوں پال رکھا ہے؟ یہ تو نہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی ہل چلا سکتا ہے۔ بس کھانے کے انتظار میں رہتا ہے، یہ تو صرف ایک بوجھ ہے۔
سلیم ان باتوں کا برا نہیں مانتا تھا، مگر آہستہ آہستہ یہ باتیں اس کے دل پر اثر کرنے لگیں۔ اس کی اپنی ضرورتیں بڑھ رہی تھیں اور وہ ایک ایسے گدھے کو پالنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا جو کسی کام نہ آئے۔ ایک دکھ بھرا فیصلہ لیتے ہوئے، سلیم نے ایک بوجھل دل کے ساتھ شیردل کو گاؤں سے دور ایک ویران جنگل میں چھوڑ دیا۔
جب سلیم شیردل کو اکیلا چھوڑ کر جا رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تم یہاں آزاد ہو، میرے دوست، سلیم نے آہستگی سے کہا اور پیچھے مڑ کر چلا گیا۔ شیردل کچھ دیر تک سلیم کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور پھر خود کو جنگل کی ویران راستوں پر اکیلا پایا۔ اس کا دل دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ اسے اپنا وجود بےکار لگنے لگا تھا۔ کئی دن وہ بھٹکتا رہا، بھوک اور پیاس سے اس کا برا حال تھا۔
اسی دوران، سلیم کے گاؤں میں سوکھا پڑ گیا۔ آسمان سے بارش غائب ہو گئی، کنویں سوکھ گئے اور زمین خشک ہو کر پتھر بن گئی۔ گاؤں والے مایوسی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تھے، لیکن پانی کا نام و نشان کہیں نہیں تھا۔ سلیم بہت پریشان ہوا اور مایوسی سے یہ سوچنے لگا کہ اس سوکھے کی وجہ سے شیردل مر گیا ہوگا۔
شیردل، جو جنگل میں تھا، اس کی پیاس بھی ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں ایک نئی جانب چل پڑا۔ اس کی لنگڑی ٹانگ درد کر رہی تھی، مگر اس کی پیاس اسے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک پہاڑی کے قریب پہنچا، اور اسے وہاں ایک چھوٹی سی ندی کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز کی طرف بڑھا، مگر راستہ نہایت ہی پتھریلا اور دشوار تھا۔
ہر قدم پر پتھر اور کانٹے تھے۔ ایک صحت مند جانور شاید جلدی میں پھسل جاتا، لیکن شیردل کی لنگڑی ٹانگ نے اسے ایک فائدہ دیا۔ وہ چھلانگیں نہیں لگا سکتا تھا، اس لیے وہ بہت احتیاط سے اور آہستگی سے قدم اٹھاتا تھا۔ اس کی آہستہ چال نے اسے اس مشکل راستے پر گرنے سے بچایا۔
آخر کار وہ ایک غار کے منہ پر پہنچا۔ وہاں ایک چٹان سے پانی ٹپک رہا تھا جو نیچے ایک چھوٹے سے حوض میں جمع ہو رہا تھا۔ پانی صاف اور ٹھنڈا تھا۔ یہ شیردل کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس نے جی بھر کر پانی پیا اور اس کی جان میں جان آ گئی۔ اس نے غار میں کچھ دیر آرام کیا اور پھر اس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اگر میں یہاں تک پہنچ سکتا ہوں، تو میں گاؤں والوں کو بھی یہاں لا سکتا ہوں۔
شیردل نے اپنا ارادہ پکا کیا اور وہ اسی راستے پر واپس گاؤں کی طرف چل پڑا۔ جب وہ گاؤں کے قریب پہنچا، تو لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ وہی بیکار لنگڑا گدھا تھا، جس کو سب نے بے کار سمجھا تھا۔ سلیم دوڑ کر اس کے پاس آیا، اور اسے گلے لگا کر رونے لگا۔ میرے شیردل، تم زندہ ہو! سلیم کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے بھر گئیں۔ شیردل نے سر ہلا کر اشارہ کیا کہ وہ اس کے پیچھے آئے۔ سلیم نے گاؤں والوں سے کہا، آؤ! یہ ہمیں کوئی راستہ دکھا رہا ہے۔ گاؤں والوں کو یقین نہیں آیا، لیکن وہ سلیم کے ساتھ ہو لیے۔
شیردل ان سب کو اسی دشوار گزار راستے پر لے گیا جس پر وہ آیا تھا۔ گاؤں والے حیرت زدہ تھے کہ ایک لنگڑا گدھا ان سب کو کیسے ایک مشکل سفر پر لے جا رہا ہے۔ جب وہ سب غار کے منہ پر پہنچے اور اندر پانی دیکھا، تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔ وہ پانی جس کے لیے گاؤں والے ترس رہے تھے، وہ ایک لنگڑے گدھے نے تلاش کر لیا تھا۔
اس دن کے بعد، شیردل کو کوئی بیکار نہیں کہتا تھا۔ اس کی لنگڑی ٹانگ اس کی پہچان بن گئی تھی۔ اس کی کہانی ہر گھر میں سنائی جاتی تھی۔ شیردل نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہوتی اور کبھی کبھی آپ کی سب سے بڑی کمزوری ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
سبق: زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اس وقت ملتی ہے جب آپ اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنا لیں۔